سندھ پولیس کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدواروں کا سکھر سے کراچی وزیراعلیٰ ہاؤس تک ننگے پاؤں پیدل لانگ مارچ شروع

سکھر(رپورٹ سني شيخ)سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتیوں کے لیے تحریری اور دیگر مراحل میں کامیابی حاصل کرنے والے SPD-01 کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدواروں کو تاحال آفر آرڈرز جاری نہ کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے جاری احتجاجی کیمپ سات روز مکمل ہونے کے بعد بھی کسی حکومتی پیش رفت کے بغیر ختم نہ ہو سکا۔ سندھ حکومت کا کوئی نمائندہ امیدواروں سے مذاکرات کرنے یا ان کے مطالبات سننے کے لیے نہ پہنچنے پر احتجاجی امیدواروں نے مجبوراً سکھر سے کراچی وزیراعلیٰ ہاؤس تک ننگے پاؤں پیدل لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔احتجاجی امیدواروں نے وزیراعلیٰ سندھ، صدر پاکستان آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کی ہے کہ وہ ان کے مستقبل سے متعلق معاملے کا فوری نوٹس لیں، میرٹ پر کامیاب ہونے والے نوجوانوں کو ان کے حقوق فراہم کریں اور ڈھائی سال سے جاری بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کریں۔اس موقع پر احتجاجی امیدواروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ سات روز سے سکھر پریس کلب کے سامنے اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے تھے، تاہم سندھ حکومت کی جانب سے کسی بھی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی ان کے مسائل سننے کے لیے کوئی پیش رفت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل انتظار اور حکومتی عدم توجہی کے باعث اب وہ مجبور ہو کر سکھر سے کراچی وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب ننگے پاؤں پیدل لانگ مارچ کر رہے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2024ء میں سندھ پولیس کے تحت SPD-01 کانسٹیبل بھرتی کے لیے منعقدہ ٹیسٹ اور دیگر مراحل کامیابی سے مکمل کیے تھے، لیکن تقریباً ڈھائی سال گزرنے کے باوجود انہیں آفر آرڈرز جاری نہیں کیے گئے۔ اس طویل تاخیر کے باعث 10 ہزار سے زائد نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ شدید ذہنی اذیت، معاشی مشکلات اور بے یقینی کا شکار ہیں۔امیدواروں نے آئی جی سندھ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سندھ پولیس میں 60 ہزار اسامیاں خالی ہیں تو ان خالی آسامیوں کی تفصیلات واضح طور پر عوام کے سامنے کیوں نہیں لائی جا رہیں؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم از کم 15 ہزار خالی آسامیوں کی تفصیلات فوری طور پر ظاہر کی جائیں اور متعلقہ اضلاع میں خالی سیٹوں کی تعداد بھی واضح کی جائے، تاکہ ویٹنگ لسٹ میں شامل امیدواروں کو اپنی پوزیشن اور مستقبل کے حوالے سے درست معلومات حاصل ہو سکیں۔انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم یافتہ نوجوان ہیں اور مختلف یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ ہمارے پاس گریجویشن اور کیمسٹری سمیت مختلف مضامین میں ماسٹرز کی ڈگریاں موجود ہیں، اس کے باوجود ہمیں ویٹنگ لسٹ میں رکھ کر ہمارے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ امیدواروں نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس میں ہزاروں اسامیاں خالی ہیں تو میرٹ پر کامیابی حاصل کرنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو آفر آرڈرز جاری کرنے میں مزید تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے امیدوار اپنے حق کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان میں سکھر، خیرپور، شکارپور، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، گھوٹکی، بدین، دادو، حیدرآباد، کراچی اور دیگر علاقوں کے نوجوان شامل ہیں۔ امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ جن اضلاع کی خالی آسامیوں اور ویٹنگ امیدواروں کی تفصیلات تاحال ظاہر نہیں کی گئیں، انہیں بھی فوری طور پر منظر عام پر لایا جائے، تاکہ بھرتیوں کے عمل میں شفافیت برقرار رہے اور امیدواروں کی بے چینی ختم ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا تعلق غریب اور محنت کش خاندانوں سے ہے۔ والدین نے بڑی محنت اور مشکلات برداشت کرتے ہوئے انہیں تعلیم دلوائی اور پولیس میں ملازمت کے حصول کے لیے ٹیسٹ کی تیاری کرائی، لیکن طویل عرصے سے آفر آرڈرز جاری نہ ہونے کے باعث ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ امیدواروں نے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ نوجوانوں کے مستقبل کو مزید داؤ پر نہ لگایا جائے اور ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔احتجاجی امیدواروں نے اعلان کیا کہ وہ سکھر سے کراچی وزیراعلیٰ ہاؤس تک ننگے پاؤں پیدل مارچ جاری رکھیں گے اور اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لانگ مارچ محض احتجاج نہیں بلکہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے ایک مجبوری ہے، کیونکہ سات روز تک سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے کے باوجود ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں آیا۔مظاہرین نے واضح کیا کہ کراچی پہنچ کر وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک انہیں آفر آرڈرز جاری نہیں کیے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ان کے حقوق فراہم نہیں کیے جاتے، ان کا پیدل مارچ اور احتجاج جاری رہے گا۔امیدواروں نے وزیراعلیٰ سندھ، صدر پاکستان آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور آئی جی سندھ سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ویٹنگ امیدواروں کی مشکلات کا ازالہ کریں، خالی آسامیوں اور ضلعی سطح پر بھرتیوں کی تفصیلات جاری کریں اور میرٹ پر پورا اترنے والے تمام اہل امیدواروں کو فوری طور پر آفر آرڈرز جاری کرنے کے لیے اقدامات کریں۔احتجاجی امیدواروں کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد کسی ادارے کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کا حصول اور اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت نوجوانوں کی بے چینی ختم کرنے کے لیے فوری فیصلہ کرے، بصورت دیگر وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
 

What’s your Reaction?
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *