لاہور(رپورٹ ذولفقار علي)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے کوتھم کے اشتراک سے ورلڈون ہیلتھ ڈے 2026 منایا۔ اس موقع پر طلبہ کی قیادت میں مختلف معلوماتی، تعلیمی اور عملی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا، جن کا مقصد انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی تعلق کو اجاگر کرنا اور ان کے تحفظ کے لیے اجتماعی ذمہ داری اور مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو فروغ دینا تھا۔ تقریب میں ایف اے او کے ون ہیلتھ ٹیم لیڈ ڈاکٹر پاوِن پڈونگ ٹوڈDr. Pawin Padungtod نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے طلبہ اور فیکلٹی ممبران سے ملاقات اور گفتگو کرتے ہوئے ون ہیلتھ کے فروغ میں نوجوانوں کے کردار اور عملی شمولیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ (FAO)کا وفد ڈاکٹر پاوِن پڈونگ ٹوڈ کی سربراہی میں تقریب میں شریک ہوا، جس میں ضیا الرحمٰن، اسٹریٹجک کمیونیکیشنز اسپیشلسٹ، اور شاہویز حسن، ایڈمنسٹریشن آفیسر بھی شامل تھے۔پروگرام کے دوران ون ہیلتھ کے موضوع پر ایک انٹرایکٹو آگاہی سیشن اور کوئز مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس کے ذریعے طلبہ کو انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کے باہمی روابط سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ طلبہ نے فوڈ سیفٹی اور حفظانِ صحت کے حوالے سے عملی مظاہرے بھی پیش کیے، جن میں ہاتھ دھونے کے درست طریقے، خوراک کو ایک دوسرے سے آلودہ ہونے سے بچانے اور کھانے پینے کی اشیاء کو محفوظ رکھنے کے اصول شامل تھے۔واضح رہے کہ ورلڈ ون ہیلتھ ڈے ہر سال 3 نومبر کو منایا جاتا ہے، جس کا مقصد انسانوں، جانوروں، پودوں اور ماحول کی صحت کے درمیان گہرے تعلق کو اجاگر کرنا ہے۔ پاکستان میں یہ تصور خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ جانوروں سےانسانوںمیںمنتقلہونےوالیبیماریوں،اینٹی مائیکروبیلریزسٹنسAMRخوراک کے تحفظ اور ماحولیاتی آلودگی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف شعبوں کے درمیان مربوط تعاون ناگزیر ہے۔
تقریب کے دوران طلبہ نے پالتو جانوروں کے شو میں بھی حصہ لیا، جبکہ تخلیقی سرگرمیوں کے تحت مختصر ویڈیو پیغامات تیار کیے، جن میں انسانوں، جانوروں اور ماحول کی صحت کے تحفظ کے لیے روزمرہ زندگی میں اپنائے جانے والے مثبت اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر ون ہیلتھ کیمپس کمٹمنٹ وال بھی قائم کی گئی، جہاں طلبہ نے اینٹی مائیکروبیلز کے ذمہ دارانہ استعمال، خوراک اور پانی کی صفائی، غذائی ضیاع کی روک تھام اور ماحول کو صاف ستھرا رکھنے جیسے عملی اقدامات اپنانے کے عہد کیے۔اس موقع پر ڈاکٹر پاوِن پڈونگ ٹوڈ نے نوجوانوں اور مستقبل کے پیشہ ور افراد کو ون ہیلتھ کے فروغ میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے تعلیمی اداروں، گھروں اور معاشرے میں صحت و صفائی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ون ہیلتھ کے سفیر بنیں۔ایف اے او پاکستان میں ون ہیلتھ کے فروغ کے لیے حکومتی اداروں، تعلیمی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، تاکہ انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کو لاحق خطرات کی روک تھام، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور مؤثر ردعمل کے لیے استعداد کار کو بہتر بنایا جا سکے۔ میں آگاہی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو فروغ دے کر ایف اے او ایک صحت مند معاشرے، محفوظ ماحول اور پائیدار مستقبل کے لیے مشترکہ ون ہیلتھ اپروچ کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت اور کوتھم لاہور کے اشتراک سے ورلڈ ون ہیلتھ ڈے 2026 منایا گیا، طلبہ کی آگاہی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1