سکھر: میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل سے متعلق ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے مضمون کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ مضمون نہ تو ورلڈ اکنامک فورم کی باضابطہ پالیسی کا بیان ہے اور نہ ہی ادارے کی تحقیقی رپورٹ، بلکہ یہ ایک انفرادی رائے پر مبنی مضمون ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ اس مضمون کے مصنف میروسلاف ظفیروف (Miroslav Zafirov) ہیں، جو متحدہ عرب امارات کی انور گرگاش ڈپلومیٹک اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل کے مشیر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ مصنف کو ورلڈ اکنامک فورم میں کسی باضابطہ عہدے پر فائز ظاہر نہیں کیا گیا، لہٰذا محض اس عالمی پلیٹ فارم پر مضمون کی اشاعت کو ورلڈ اکنامک فورم کی سرکاری سفارش یا تائید قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مضمون کو مکمل طور پر پڑھنے اور اس کے اصل مندرجات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس میں انتظامی ڈھانچے کے ساتھ مقامی حکمرانی، عوامی سہولتوں تک رسائی، مضبوط مقامی ریونیو میکانزم، مالی وسائل اور جوابدہی جیسے اہم موضوعات بھی زیرِ بحث ہیں۔ اس لیے بحث کا مرکز محض انتظامی اکائیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں، بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی اور عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولتوں کی فراہمی ہونا چاہیے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ ایک مضبوط بلدیاتی نظام ہی مقامی مسائل کے مؤثر حل، شہری خدمات کی بہتری اور عوامی نمائندوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب، صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی شہری سہولتوں کے لیے مقامی حکومتوں کو مؤثر انتظامی اختیارات، مناسب مالی وسائل اور واضح احتسابی نظام فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ بلدیاتی اداروں کو مؤثر بنانے، صوبائی مالیاتی کمیشن کے ذریعے مالی وسائل کی تقسیم کے نظام کو آگے بڑھانے اور مضبوط بلدیاتی ڈھانچے کے لیے قانونی و انتظامی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہنمائی میں ایک ایسے بلدیاتی نظام کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے جو مالی و انتظامی خودمختاری، اختیارات کی مناسب تفویض اور عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے میں مددگار ہو۔
میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات سے متعلق کسی بھی بحث کو انفرادی آرا سے آگے بڑھ کر عوامی ضروریات، مقامی حکومتوں کی صلاحیت، مالی وسائل اور بہتر حکمرانی کے عملی تقاضوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک مؤثر بلدیاتی نظام کا بنیادی مقصد عوام کے مسائل حل کرنا اور بنیادی سہولتوں کو ان کی دہلیز تک پہنچانا ہونا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی ویب سائٹ پر کسی مضمون کی اشاعت کو ادارے کی باضابطہ پالیسی یا سفارش تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ اصل اہمیت اس امر کی ہے کہ انتظامی اصلاحات عوامی مفاد، بہتر حکمرانی اور مضبوط بلدیاتی اداروں کے اصولوں کے مطابق ہوں۔