سکھر( رپورٹ عادل خان) صالح پٹ کی رہائشی خاتون بااثر رشتہ داروں کے مبینہ مظالم اور جان سے مارنے کی دھمکیوں سے تنگ آکر اپنے شوہر کے ہمراہ سکھر پریس کلب پہنچ گئی، جہاں اس نے احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔تفصیلات کے مطابق صالح پٹ کی رہائشی مسماۃ امیدان دھاندھو نے اپنے شوہر ندیم دھاندھو کے ہمراہ سکھر پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے دہائی دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کے بااثر رشتہ دار شعبان دھاندھو، ایاز، گلشن، صالح دھاندھو، رحمت اللہ اور خالد دھانڈھو نے اس سے قبل بھی ان کے گھر پر حملہ کرکے اس کے شوہر کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی دونوں ٹانگیں توڑ دی گئی تھیں، جبکہ اب بھی انہیں مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں کے باعث ان کا شوہر مزدوری کے لیے بھی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، جس کی وجہ سے ان کا خاندان شدید پریشانی اور خوف کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے حوالے سے صالح پٹ تھانے میں بھی فریاد کی ہے اور انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے، لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ احتجاج کرنے والی خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ بااثر رشتہ دار ان کے شوہر کو ہراساں کرکے اس پر بیوی کو طلاق دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور دھمکیاں دے رہے ہیں کہ بیوی کو طلاق دے دو، اسے پیسوں کے عوض فروخت کرکے رقم آپس میں تقسیم کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر زبردستی طلاق دلوا کر انہیں فروخت کرنے کی سازش پر عمل کیا گیا تو ان کے معصوم بچے دربدر ہوجائیں گے اور ان کا گھر اجڑ جائے گا۔ مسمات امیدان اور ان کے شوہر ندیم دھاندھو نے آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر اور ایس ایچ او صالح پٹ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور زبردستی طلاق دلوا کر فروخت کرنے کی دھمکیاں دینے والے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، انہیں تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کا گھر اجڑنے سے بچا کر انصاف فراہم کیا جائے۔
سکھر: بااثر رشتہ داروں کے مبینہ مظالم سے تنگ خاتون شوہر سمیت پریس کلب پہنچ گئی، انصاف اور تحفظ کی اپیل، زبردستی طلاق دلوا کر فروخت کرنے کی دھمکیاں دینے کا الزام
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1