تاریخ پیدائش کے تنازع پر ہیڈ کانسٹیبل کی تنخواہ 11 ماہ سے بند، سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر(رپورٹ عادل خان)سکھر کے علاقے نیو پنڈ اسلام کالونی کے رہائشی گوپانگ برادری سے تعلق رکھنے والے ہیڈ کانسٹیبل بہر علی گوپانگ نے ٹریژری آفس کی جانب سے تاریخ پیدائش کے تنازع کو جواز بنا کر تنخواہ بند کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور تنخواہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس موقع پر احتجاج کرنے والے ہیڈ کانسٹیبل بہر علی گوپانگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ 30 سال سے محکمہ پولیس میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس وقت ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر تعینات ہیں۔ ان کے مطابق محکمہ پولیس میں ملازمت کے دوران ان کی تاریخ پیدائش کے حوالے سے کبھی کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا، تاہم ٹریژری آفس میں ریکارڈ پر درج مبینہ غلط تاریخ پیدائش کی بنیاد پر ان کی تنخواہ روک دی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے اصل دستاویزات میں تاریخ پیدائش 23 مارچ 1974 درج ہے، جبکہ ٹریژری آفس کے ریکارڈ میں یکم فروری 1966 درج کی گئی ہے، جو ان کے بقول ان کے کسی بھی تعلیمی سرٹیفکیٹ، شناختی کارڈ یا محکمہ پولیس کے سروس ریکارڈ میں موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ غلط تاریخ پیدائش کی وجہ سے انہیں مقررہ مدت سے تقریباً سات سال قبل ہی عمر پوری ہونے کی بنیاد پر ریٹائرمنٹ کے معاملے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بہر علی گوپانگ نے مزید بتایا کہ ان کی تنخواہ بند ہوئے ایک سال کے قریب عرصہ گزر چکا ہے، جبکہ وہ گزشتہ 11 ماہ سے بغیر تنخواہ کے ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی سکھر کی جانب سے تاریخ پیدائش کی درستگی کے لیے کریکشن لیٹر بھی جاری کیا جا چکا ہے، جسے وہ ٹریژری آفس میں جمع کرا چکے ہیں، تاہم وہاں کے متعلقہ حکام انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں اور انہیں اپنے محکمہ سے رجوع کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 11 ماہ سے محکمہ پولیس اور ٹریژری آفس کے درمیان چکر کاٹ رہے ہیں، لیکن تاحال ان کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا اور نہ ہی ان کی تنخواہ بحال کی گئی ہے۔احتجاجی ہیڈ کانسٹیبل نے اپنی مالی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غریب ملازم ہیں اور ان کے گھر کا واحد ذریعہ آمدن تنخواہ ہے۔ والد کے انتقال کے بعد انہوں نے بینک سے قرض لے کر اپنی بہنوں اور بیٹیوں کی شادیاں کروائیں، جبکہ اب گزشتہ 11 ماہ سے بینک کی اقساط بھی ادا نہیں کر سکے، جس کے باعث ان پر پانچ سے چھ لاکھ روپے تک کا مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تنخواہ بند ہونے کے باعث گھر کا کرایہ ادا کرنا، بچوں کی ضروریات پوری کرنا اور اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ان کے مطابق گھر کے بچے اور والدہ بھی بیمار ہیں، جبکہ وہ خود مسلسل پریشانی اور ذہنی دباؤ کے باعث بیمار ہو چکے ہیں۔بہر علی گوپانگ نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ محلے سے بھیک مانگ کر اپنے بچوں کے لیے روٹی کا انتظام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سرکاری ملازم ہونے کے باوجود انہیں اس صورتحال سے گزرنا پڑ رہا ہے، جو ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔انہوں نے ایس ایس پی سکھر، ڈی آئی جی سکھر اور محکمہ پولیس سمیت ٹریژری آفس کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش کے مطابق ریکارڈ کی فوری درستگی کی جائے، بند تنخواہیں بحال کی جائیں اور گزشتہ ماہ سے واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، تاکہ وہ اپنے بچوں اور اہل خانہ کی کفالت کر سکیں۔احتجاج کرنے والے ہیڈ کانسٹیبل نے حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھا جائے اور انہیں مزید پریشانی سے نجات دلا کر انصاف فراہم کیا جائے۔
 

What’s your Reaction?
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *