سکھر(عبدالجبار نوناری) نیشنل بینک آف پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کے دیرینہ مسائل تاحال حل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہےاس حوالے سے آغا بشیر احمد ترین نے کہا ہے کہ ایک طرف بینک کے اعلیٰ عہدیداران بھاری تنخواہوں اور مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ہزاروں بزرگ پنشنرز اور بیوہ خواتین محدود پنشن میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل بینک کے پنشنرز کی پنشن میں 2010ء سے خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ادویات، بجلی، گیس، گھر کے کرائے اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ آغا بشیر احمد ترین کا کہنا تھا کہ ان ریٹائرڈ ملازمین نے اپنی زندگی کے قیمتی سال قومی ادارے کی خدمت میں گزارےلیکن آج بڑھاپے میں انہیں اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے مطالبات اور احتجاج کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان، وزارت خزانہ، نیشنل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اعلیٰ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ پنشنرز کے دیرینہ مسائل فوری حل کیے جائیں، مہنگائی کے تناسب سے پنشن میں اضافہ کیا جائے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں سمیت متعلقہ پارلیمانی ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائےانہوں نے کہا کہ پنشن کوئی خیرات نہیں بلکہ عمر بھر کی خدمات کا جائز حق ہےقومی اداروں کی عظمت اپنے سابق ملازمین کے ساتھ انصاف اور احترام سے قائم رہتی ہے.
نیشنل بینک کے پنشنرز کے مسائل حل نہ ہو سکے، مہنگائی کے باعث بزرگ اور بیوہ خواتین مشکلات کا شکار آغا بشیر احمد ترین
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1