سکھر(رپورٹ محمد ارام)سکھر شہر میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی اہم تجارتی مراکز، مصروف بازاروں اور فٹ پاتھوں پر لنڈا بازار کے اسٹالز، ٹھیلے اور ریڑھیاں لگنے کے باعث مبینہ طور پر غیرقانونی تجاوزات میں اضافہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں پیدل چلنے والے شہریوں، خصوصاً خواتین، بزرگوں اور بچوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہورہی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے متعلقہ اداروں کی مبینہ غفلت اور تجاوزات کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق میونسپل کارپوریشن سکھر، ضلعی انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی مبینہ لاپرواہی کے باعث شہر کے اہم تجارتی علاقوں منارہ روڈ، اسٹیڈیم روڈ، انور پراچہ روڈ، ڈولفن بیکرز روڈ، بیراج روڈ، غریب آباد اور دیگر مقامات پر فٹ پاتھوں پر اسٹالز، ٹھیلے اور ریڑھیاں قائم کردی گئی ہیں۔ ان تجاوزات کے باعث فٹ پاتھوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے جگہ محدود ہوگئی ہے اور شہریوں کو مجبوراً سڑکوں پر چلنا پڑتا ہے، جس سے ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ اور حادثات کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں قائم مبینہ غیرقانونی اسٹالز، ٹھیلوں اور ریڑھیوں سے روزانہ کی بنیاد پر بھتہ وصول کیا جاتا ہے، جس کے باعث تجاوزات کا سلسلہ مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر تجاوزات قائم کرنے والے بعض عناصر مختلف اسٹالز، ٹھیلوں اور ریڑھیوں سے رقم وصول کرکے میونسپل کارپوریشن کے بعض افسران، اینٹی انکروچمنٹ فورس کے اہلکاروں، ٹریفک پولیس، ضلعی پولیس اور بعض مبینہ طور پر متعلقہ بااثر افراد و تاجر رہنماؤں تک حصہ پہنچاتے ہیں۔شہریوں کے مطابق شہر کی مختلف مارکیٹوں، بازاروں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ پیدل چلنے والوں کے لیے گزرنے کی جگہ بھی باقی نہیں رہی۔ خواتین، بزرگوں اور بچوں کو بازاروں میں خریداری اور روزمرہ کے کاموں کے سلسلے میں آمدورفت کے دوران شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی شہری ان مبینہ غیرقانونی تجاوزات کے خلاف آواز اٹھاتا ہے یا متعلقہ اداروں سے تجاوزات ختم کرانے کی درخواست کرتا ہے تو اسے مبینہ طور پر دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث شہری شکایات درج کرانے سے بھی گریز کرنے لگے ہیں۔دوسری جانب انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے متعلقہ عملے کی مبینہ خاموشی کے باعث نیم کی چاڑھی، گھنٹہ گھر چوک، منارہ روڈ، شہید گنج، شاہی بازار، صرافہ بازار، لیاقت بازار، سری چوک اور دیگر اہم تجارتی مراکز میں بھی تجاوزات کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعدد دکانداروں نے اپنی دکانوں کے سامنے مقررہ حدود سے آگے جگہ بڑھا کر فٹ پاتھوں پر بھی کاروباری سرگرمیاں شروع کررکھی ہیں، جس کے نتیجے میں عوام کے لیے پیدل آمدورفت مزید مشکل ہوگئی ہے۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر سکھر، میئر سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کی تمام مارکیٹوں، تجارتی مراکز، شاہراہوں اور فٹ پاتھوں سے تجاوزات کے خاتمے کے لیے فوری طور پر بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جائے اور اس سلسلے میں مستقل بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تجاوزات قائم کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، مبینہ بھتہ خوری میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں اور فٹ پاتھوں کو مکمل طور پر پیدل چلنے والے شہریوں کے لیے خالی کرایا جائے، تاکہ شہریوں کو روزمرہ آمدورفت میں پیش آنے والی مشکلات سے نجات مل سکے اور شہر میں ٹریفک کی روانی بھی بحال ہوسکے۔
سکھر کی اہم تجارتی شاہراہوں اور فٹ پاتھوں پر لنڈا بازار کے اسٹالز اور تجاوزات کی بھرمار، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1