سکھر(رپورٹ عادل خان)سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتیوں کے لیے تحریری امتحانات سمیت دیگر مراحل میں کامیابی حاصل کرنے والے ایس پی ڈی-01 (SPD-01) کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدواروں کو تاحال آفر آرڈرز جاری نہ کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ چھٹے روز بھی جاری رہا۔ ڈھائی سال سے آفر آرڈرز کے منتظر امیدواروں نے سندھ حکومت، وزیراعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ سے معاملے کا فوری نوٹس لینے، میرٹ پر پورا اترنے والے اہل امیدواروں کو آفر آرڈرز جاری کرنے اور بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امیدواروں نے مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں 4 نومبر کو سکھر سے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی تک ننگے پاؤں پیدل لانگ مارچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔اس موقع پر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما و فنانس سیکریٹری لالا اسد پٹھان اور سکھر پریس کلب کے صدر خالد بھانبھن نے احتجاجی کیمپ پہنچ کر ویٹنگ امیدواروں سے اظہار یکجہتی کیا اور سندھ حکومت سے ان کے جائز مطالبات منظور کرنے کی اپیل کی۔لالا اسد پٹھان نے احتجاجی امیدواروں سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکھر پریس کلب کے سامنے بڑی تعداد میں نوجوان اپنے مستقبل کے حوالے سے سراپا احتجاج ہیں، جنہیں طویل عرصہ گزرنے کے باوجود آفر آرڈرز جاری نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے اکتوبر 2024ء میں جاری ہونے والے ایک خط میں بھی متعلقہ حکام کو امیدواروں کے آفر آرڈرز جاری کرنے سے متعلق ہدایات دیے جانے کا ذکر سامنے آیا ہے، تاہم اس کے باوجود امیدواروں کو ان کا حق نہیں مل سکا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر امیدوار آئی بی اے کے تحت منعقدہ سخت امتحانات اور بھرتی کے دیگر مراحل میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں تو انہیں مزید انتظار میں رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ بعض امیدواروں کی جانب سے عدالت میں مقدمات دائر کیے جانے کے باعث تمام ویٹنگ امیدواروں کے آفر آرڈرز روکنا ناانصافی ہے۔ اگر بھرتیوں کے عمل میں کوئی قانونی یا انتظامی مسئلہ درپیش ہے تو حکومت کو اسے حل کرکے اہل امیدواروں کے مستقبل کے حوالے سے واضح فیصلہ کرنا چاہیے۔لالا اسد پٹھان نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے اس معاملے پر فوری توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ روزگار حاصل کرنا ان نوجوانوں کا بنیادی حق ہے، کیونکہ وہ میرٹ پر کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کر رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور میرٹ کی پاسداری حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری سے بھی اپیل ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور اہل امیدواروں کو ان کا حق دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، تاکہ سندھ کے نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ ہوسکے۔احتجاجی مظاہرے میں شریک امیدواروں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر آفر آرڈرز کے فوری اجرا، میرٹ کی پاسداری، بھرتیوں کے عمل میں شفافیت اور مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے مطالبات درج تھے۔ احتجاجی کیمپ کی قیادت مظفر جوکھیو، وکیل احمد، محمد شہزاد اور دیگر امیدوار کر رہے تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مظفر جوکھیو اور دیگر امیدواروں نے کہا کہ انہوں نے 2024ء میں سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتیوں کے لیے منعقدہ ایس پی ڈی-01 کے ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیے تھے، تاہم تقریباً ڈھائی سال گزرنے کے باوجود انہیں آفر آرڈرز جاری نہیں کیے گئے۔ اس طویل تاخیر کے باعث 10 ہزار سے زائد نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوان اپنے حق کے حصول کے لیے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج میں سکھر، خیرپور، شکارپور، لاڑکانہ، قمبر شہدادکوٹ، گھوٹکی، بدین، دادو، حیدرآباد، کراچی سمیت دیگر علاقوں کے امیدوار شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام امیدوار میرٹ کے مطابق بھرتی کے عمل میں شریک ہوئے اور کامیابی حاصل کی، اس لیے انہیں مزید انتظا…
سندھ پولیس کے 10 ہزار سے زائد ویٹنگ امیدوار ڈھائی سال سے آفر آرڈرز کے منتظر، سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ چھٹے روز بھی جاری
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1