سکھر(رپورٹ محمدانيس)قریشی روڈ اور گڈانی پھاٹک کے ترقیاتی کاموں سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں، کام جاری ہے، جلد مکمل ہوگا، بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ خبر کے مطابق میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے اپنے ویڈیو پیغام میں سکھر کی مختلف شاہراہوں پر جاری ترقیاتی کاموں، بجلی کے کھمبوں کی منتقلی اور قریشی روڈ سمیت گڈانی پھاٹک اوور ہیڈ برج سے منسلک سڑکوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقیاتی کام جاری ہے (Work in Progress) اور اس حوالے سے حقائق کو درست تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہےبیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ قریشی روڈ کے حوالے سے سامنے آنے والی ویڈیو اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کے تناظر میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس منصوبے کا ورک آرڈر جون 2025 میں جاری کیا گیا تھا، جس کی تصدیق سندھ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (SPPRA) کے پورٹل سے بھی کی جا سکتی ہے۔ منصوبے کے تحت اب تک کنٹریکٹر کو مجموعی طور پر 50 فیصد ادائیگی کی جا چکی ہے میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ گڈانی پھاٹک اوور ہیڈ برج سے منسلک سڑک پر پہلے 22 بجلی کے کھمبے موجود تھے، جن میں سے الحمدللہ 11 کھمبے منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ سڑک کی توسیع اور اسے ڈوئل کیریج وے بنانے کا کام بھی انجام دیا گیا ہے۔ اب پورے روڈ پر اسفالٹ (کارپٹنگ) کا کام باقی ہے، جسے مکمل کیا جانا ہے۔ لہٰذا اس منصوبے کو نامکمل دکھا کر یہ تاثر دینا کہ یہاں کوئی کام نہیں ہوا، درست نہیں۔بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے مزید کہا کہ بجلی کے کھمبوں کی منتقلی اور حادثات کے ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے سکھر میونسپل کارپوریشن نے یہ معاملہ 2022 میں سیپکو (SEPCO) کے ساتھ اٹھایا تھا۔ اس سلسلے میں تقریباً 3 کروڑ 39 لاکھ روپے کا چالان جاری کیا گیا، جس کی ادائیگی سکھر میونسپل کارپوریشن نے کی۔ تاہم کام کے حجم میں اضافے اور سیپکو کی جانب سے تاخیر کے باعث معاملہ آگے بڑھنے میں وقت لگامیئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے بتایا کہ سیپکو کے 31 جنوری 2023 کے خط میں سابقہ ادائیگی کی تصدیق کے ساتھ مزید 27 لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کی گئی۔ سکھر میونسپل کارپوریشن نے کسی تنازع میں پڑنے کے بجائے یہ رقم بھی جون 2024 میں ادا کر دی۔ بعد ازاں تقریباً دو سال تک کام میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث قیمتوں میں اضافے کی بنیاد پر مزید 24 لاکھ روپے کا نیا چالان جاری کیا گیا، جس کی ادائیگی بھی اکتوبر میں چالان کے اجرا کے تقریباً ڈیڑھ ماہ کے اندر کر دی گئی۔بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ ان ادائیگیوں اور متعلقہ دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ سکھر میونسپل کارپوریشن نے اپنی ذمہ داریوں سے گریز نہیں کیا بلکہ محدود وسائل کے باوجود بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کے لیے درکار مالی وسائل فراہم کیے۔ بعض تاخیر سیپکو کی جانب سے ہوئی، تاہم سیپکو نے مختلف منصوبوں میں تعاون بھی کیا ہے اور جہاں سیپکو نے کام مکمل کیا ہے وہاں اس کے کردار کو سراہا جاتا ہے۔بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے مزید کہا کہ سکھر کی متعدد اہم شاہراہوں پر ترقیاتی کاموں کے دوران سیپکو کے تعاون سے بجلی کے کھمبوں کی بروقت منتقلی اور ری الائنمنٹ کے بعد سڑکوں کو ڈوئل کیریج وے میں تبدیل کیا گیا اور بعد ازاں اسفالٹ کا کام بھی مکمل کیا گیا۔ ان شاہراہوں میں ملٹری روڈ، لبِ مہران روڈ، ایوب گیٹ روڈ، نواں گوٹھ روڈ اور شکارپور روڈ سمیت شہر کی دیگر اہم سڑکیں شامل ہیں۔میئر سکھر نے کہا کہ سیپکو کی جانب سے مختلف منصوبوں کے لیے پولز کی منتقلی اور ٹرانسفارمرز کی فراہمی کے سلسلے میں بھی حالیہ عرصے کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ رواں مالی سال میں تقریباً 4 کروڑ روپے جبکہ مختلف مدات میں مجموعی طور پر تقریباً 11 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ ان منصوبوں میں سے تقریباً 80 فیصد کام سیپکو مکمل کر چکا ہے، جس پر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے سیپکو کے تعاون کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔تاہم بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ قریشی روڈ اور اس سے منسلک منصوبوں میں تاخیر کے باعث شہریوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس پر سیپکو کی جانب سے ہونے والی تاخیر اور غفلت کی نشاندہی کرنا بھی ضروری ہے۔ میئر سکھر کے مطابق اولین ترجیح شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا اور ترقیاتی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنا ہےبیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے 15 سال پرانے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جن پرانے ورک آرڈرز کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ موجودہ دورِ انتظامیہ سے تعلق نہیں رکھتے۔ اس حوالے سے ابتدائی مع…
قریشی روڈ اور گڈانی پھاٹک کے ترقیاتی کاموں سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات حقائق کے منافی ہیں، کام جاری ہے، جلد مکمل ہوگا، بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1