سکھر (رپورٹ ۾محمد ارام ) سکھر محنت کش اسٹاف یونین سی بی اے سکھر میونسپل کارپوریشن کے زیرِ اہتمام ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور دیگر جائز مطالبات کی منظوری نہ ہونے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے تیسرے روز بھی احتجاجی دھرنا جاری رہا۔ دھرنے میں سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں مذمتی پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے، جن پر ملازمین کے حقوق کی فراہمی اور زیرِ التوا مسائل کے فوری حل کے مطالبات درج تھے۔احتجاجی دھرنے کی قیادت محنت کش اسٹاف یونین سی بی اے سکھر میونسپل کارپوریشن کے جنرل سیکریٹری علی مردان شیخ، سینئر نائب صدر دانش قریشی، رابطہ سیکریٹری شاہد حسین جتوئی، ضلع کونسل سی بی اے کے جنرل سیکریٹری طارق حسین سولنگی، واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کے رہنما سید زاہد حسین شاہ، رمیش لعل، آصف انڑ، حنیف بگٹی اور دیگر مزدور رہنما کر رہے تھے، جبکہ ملازمین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کے رہنما سید زاہد شاہ، ضلع کونسل سکھر کے رہنما طارق سولنگی، صداقت علی زنگیجو، نواز جسمانی اور دیگر نے بھی دھرنے میں شرکت کی۔اس موقع پر مزدور رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کے ساتھ آخر یہ ناروا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟ ملازمین کا قصور کیا ہے؟ وہ صرف اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کو تنخواہوں، پنشن، بقایاجات، میڈیکل بلز، یونیفارم، میڈیکل الاؤنس اور دیگر مراعات کی عدم فراہمی کے باعث شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے، اس کے باوجود وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے بنیادی مسائل کو فوری حل کیا جائے، او زیڈ ٹی (OZT) شیئر میں اضافہ کیا جائے اور حکومتِ سندھ کی جانب سے تنخواہوں اور پنشن میں کیے گئے اضافے پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ تمام اہل ملازمین کو ڈی پی سی (DPC) کے تحت ترقی دی جائے، جبکہ میڈیکل بلز سمیت ملازمین کے تمام زیرِ التوا واجبات فوری ادا کیے جائیں۔ انہوں نے سیوان ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے آنے والے افسران اور ملازمین کی جوائنٹنگ روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔مزدور رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ یونین کی جانب سے متعدد بار متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے ملازمین کے مسائل حل کرنے کی درخواست کی گئی، تاہم انہیں کوئی مناسب جواب نہیں مل سکا۔ ملازمین پہلے ہی تنخواہوں، پنشن، بقایاجات، میڈیکل الاؤنس، یونیفارم اور دیگر مراعات کی عدم فراہمی کے باعث پریشانی کا شکار ہیں، لیکن افسوس کہ میئر سکھر، میونسپل کمشنر اور دیگر متعلقہ افسران ملازمین کے مسائل حل کرنے کے بجائے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ میونسپل کارپوریشن کے تینوں ٹاؤنز کے ملازمین کو تنخواہیں، پنشن اور دیگر مراعات ادا کی جا چکی ہیں، لیکن سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کے ساتھ جان بوجھ کر سوتیلی ماں جیسا سلوک اختیار کیا جا رہا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرکے انہیں فوری طور پر ان کے جائز حقوق فراہم کیے جائیں۔احتجاجی رہنماؤں نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات سندھ، سندھ کی اعلیٰ قیادت اور سکھر میونسپل کارپوریشن کے متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کیا کہ ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، ترقیوں، میڈیکل بلز اور دیگر واجبات کی ادائیگی سمیت تمام جائز مسائل فوری حل کیے جائیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ملازمین اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے اور مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر ملازمین کے مسائل فوری حل نہ کیے گئے تو وہ اپنے حقوق کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کا تنخواہوں، پنشن اور دیگر مطالبات کے حق میں تیسرے روز بھی احتجاجی دھرنا جاری
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1