پسند کی شادی کرنے والا جوڑا تحفظ کے لیے سکھر پریس کلب پہنچ گیا، رشتے داروں سے جان کا خطرہ ہے، جوڑے کی دہائی میرپور ماتھیلو کے رہائشی جوڑے کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے، جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے اور مبینہ جھوٹے اغواء کے مقدمے کی شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سکھر(رپورٹ محمد فيضان)گھوٹکی کے علاقے میرپور ماتھیلو کے گوٹھ علی آباد کی رہائشی پسند کی شادی کرنے والی خاتون اپنے شوہر کے ہمراہ رشتے داروں کی جانب سے مبینہ جان سے مارنے کی دھمکیوں اور تحفظ فراہم کرنے کی اپیل لے کر سکھر پریس کلب پہنچ گئی۔ جوڑے نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ضلع گھوٹکی کے علاقے میرپور ماتھیلو، گوٹھ علی آباد کی رہائشی مسمات زہرہ ملک دختر اللہ داد ملک نے اپنے شوہر امیر علی پتافی ولد خادم حسین پتافی، سکنہ گوٹھ سونو خان پتافی، ڈھرکی، ضلع گھوٹکی کے ہمراہ سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ اس نے اپنی آزاد مرضی اور رضا مندی سے گھر سے نکل کر سیشن کورٹ میں امیر علی پتافی سے پسند کی شادی کی ہے۔زہرہ ملک کے مطابق پسند کی شادی کرنے کے بعد اس کے والد اللہ داد ملک سمیت برادری کے بعض افراد عزیز اللہ، ضمیر، نعیم، ذوالفقار، شعبان اور دیگر ان کے مخالف ہوگئے ہیں اور مبینہ طور پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ رشتے دار ان کی جان کے درپے ہیں اور انہیں کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتے ہیں۔احتجاج کرنے والی خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ پسند کی شادی کی اطلاع ملنے کے بعد ان کے شوہر اور سسرالیوں کے خلاف اغواء کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا ہے، جو ان کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور کسی نے انہیں اغواء نہیں کیا، اس کے باوجود انہیں مختلف مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔زہرہ ملک اور اس کے شوہر امیر علی پتافی نے کہا کہ وہ اپنی زندگی خوشی اور سکون کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں، تاہم رشتے داروں کی مبینہ مخالفت اور دھمکیوں کے باعث وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام، پولیس کے متعلقہ افسران اور دیگر ذمہ دار اداروں سے اپیل کی کہ ان کی شکایت کا فوری نوٹس لیا جائے، معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔جوڑے نے مطالبہ کیا کہ ان کی پسند کی شادی کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور مبینہ جھوٹے اغواء کے مقدمے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں، تاکہ وہ خوف و ہراس سے آزاد ہوکر اپنی ازدواجی زندگی گزار سکیں۔
 

What’s your Reaction?
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *