سکھر(بیورورپورٹ)پاکولا چوک کے رہائشی رند بلوچ قوم سے تعلق رکھنے والے غلام علی رند نے اپنے بااثر رشتے داروں کی مبینہ ظلم و زیادتیوں، تشدد اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔احتجاج کے دوران غلام علی رند نے میڈیا کے سامنے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تقریباً ایک سال قبل انہوں نے اپنی بیٹی مسمات بھاگی کی شادی شیر علی ولد وہاب رند سے کی تھی، تاہم شادی کے بعد ان کی بیٹی کے سسر وہاب رند نے مبینہ طور پر ان کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے بعد ان کی بیٹی نے سیشن کورٹ میں طلاق کے حصول کے لیے پٹیشن دائر کی۔ ان کے مطابق عدالتی کارروائی کے نتیجے میں طلاق ہونے کے بعد بھی مخالفین کی جانب سے مبینہ طور پر انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ جاری رہا۔غلام علی رند نے مزید الزام عائد کیا کہ وہاب رند، اس کے بھائی حضور بخش رند اور اس کی بیوی مسمات شبیراں نے ان کے گھر میں گھس کر انہیں، ان کی بیٹی اور گھر کے دیگر افراد کو مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوری بعد انہوں نے سائٹ ایریا تھانے میں مذکورہ افراد کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی، تاہم ان کے بقول اس کے باوجود نامزد ملزمان آزادانہ گھوم رہے ہیں اور انہیں مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔احتجاج کرنے والے شخص نے دعویٰ کیا کہ چند روز قبل وہاب رند کا بیٹا شیر علی رند انتقال کر گیا، لیکن اب وہاب رند اور اس کے دیگر اہلِ خانہ مبینہ طور پر سائٹ ایریا تھانے کی پولیس کو پیسے دے کر اس کی موت کو قتل کا رنگ دینے اور اس واقعے میں انہیں ملوث کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ غلام علی رند نے پولیس پر الزامات عائد کرتے ہوئے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ ایک غریب شخص ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ شدید پریشانی اور خوف کا شکار ہیں۔غلام علی رند نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر رینج اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے پُرزور اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، تمام الزامات کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، اگر کسی بھی شخص کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور انہیں و ان کے اہلِ خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں مبینہ طور پر جھوٹے مقدمے میں ملوث کرنے کی کوششوں کا بھی نوٹس لیا جائے تاکہ وہ اور ان کے اہلِ خانہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے محفوظ رہ سکیں اور انہیں انصاف مل سکے۔
سکھر: بااثر رشتے داروں کے مبینہ ظلم و زیادتیوں کے خلاف غلام علی رند کا پریس کلب کے سامنے احتجاج، تحفظ اور انصاف کی اپیل
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1