سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی تین ماہ سے تنخواہیں اور پنشنیں بند، پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا، مرحلہ وار تحریک شروع کرنے کا اعلان

سکھر(بیورورپورٹ)سکھر محنت کش اسٹاف یونین سی بی اے سکھر میونسپل کارپوریشن کی اپیل پر ملازمین نے گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں اور پنشنوں کی عدم ادائیگی سمیت دیگر جائز مطالبات منظور نہ ہونے کے خلاف مرحلہ وار احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا اور اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ حاضر سروس ملازمین کی تنخواہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنیں فوری طور پر ادا کی جائیں اور دیگر جائز مطالبات منظور کیے جائیں۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت محنت کش اسٹاف یونین سی بی اے سکھر میونسپل کارپوریشن کے جنرل سیکریٹری علی مردان شیخ، سید زاہد حسین شاہ، دیدار حسین، سینئر نائب صدر دانش قریشی، رابطہ سیکریٹری شاہد حسین جتوئی، حامد مغل، کاشف ملک، رمیش لعل، محمد حنیف، اور دیگر یونین رہنماؤں نے کی۔ اس موقع پر ملازمین نے یونین کے جھنڈے اور اپنے مطالبات کے حق میں تحریری پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے یونین رہنماؤں اور ملازمین نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے حاضر سروس ملازمین کو تنخواہیں جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کو پنشنیں ادا نہیں کی جا رہی ہیں، جس کے باعث ملازمین شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ تنخواہوں اور پنشنوں کی عدم ادائیگی کے سبب ملازمین کے لیے اپنے اہل خانہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ گھریلو ضروریات پوری نہ ہونے کے باعث ان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔یونین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملازمین نے اپنے مسائل کے حل کے لیے پرامن احتجاج کیا اور جائز مطالبات پورے نا ہونے تک احتجاجی دھرنا جاری رہے گا، میئر سکھر اور میونسپل کمشنر کی یقین دہانیوں کے باوجود تاحال ملازمین کے جائز مطالبات منظور نہیں کیے گئے اور نہ ہی تنخواہوں اور پنشنوں کی ادائیگی کا مسئلہ حل ہو سکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملازمین کے ساتھ اس قسم کا رویہ سراسر ناانصافی ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یونین رہنماؤں نے مالی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سکھر میونسپل کارپوریشن کو او زیڈ ٹی (آکٹروئی و ضلعی ٹیکس) کی مد میں ملنے والی 22 کروڑ 90 لاکھ روپے کی رقم میں سے 9 کروڑ روپے سے زائد تنخواہوں اور 5 کروڑ روپے پنشنوں کی مد میں مختص کرنے کے باوجود 8 کروڑ 90 لاکھ روپے بچتے ہیں، جبکہ بلدیاتی ادارے کی ماہانہ آمدنی بھی ایک کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 9 کروڑ 90 لاکھ روپے سے زائد کی رقم دستیاب ہونے کے باوجود ملازمین کو تنخواہوں اور پنشنوں کی ادائیگی نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ یونین رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ جب میئر سکھر کے پاس دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز موجود ہیں تو دن رات فرائض انجام دینے والے ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنوں کی ادائیگی کے لیے رقم کیوں دستیاب نہیں؟مظاہرین نے مزید کہا کہ یونین کی جانب سے متعدد مرتبہ متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے مسائل کی نشاندہی کی گئی، لیکن کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کے باعث ملازمین میں مایوسی اور بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین صرف تنخواہوں اور پنشنوں ہی سے محروم نہیں بلکہ ان کے واجب الادا بلز، یونیفارم، میڈیکل الاؤنس اور دیگر سہولیات کے مسائل بھی تاحال حل طلب ہیں۔ اس کے باوجود میونسپل کارپوریشن کے ملازمین اپنی ذمہ داریاں پوری پابندی کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔یونین رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ میونسپل کارپوریشن کے تینوں ٹاؤنز کے ملازمین کو تنخواہیں، پنشنیں اور دیگر مراعات ادا کی جا چکی ہیں، جبکہ سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔احتجاجی ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات فوری طور پر منظور کرکے تنخواہوں اور پنشنوں کی ادائیگی یقینی نہ بنائی گئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر دستیاب فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزراء سے اپیل کی کہ وہ سکھر میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کو درپیش مسائل کا فوری نوٹس لیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کریں کہ ملازمین کی تین ماہ سے رکی ہوئی تنخواہیں، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنیں اور دیگر واجبات فوری ادا کرکے ان کی مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔

What’s your Reaction?
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *