ریلوے کوارٹرز خالی کرانے کے نام پر شہریوں کو ہراساں کرنا بند کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کو بے گھر کرنے کے بجائے مسئلے کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل نکالا جائے، بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ
سکھر: میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے سکھر ہاؤس میں ریلوے کوارٹرز خالی کرانے کی کارروائی اور اس کے نتیجے میں متاثرہ خاندانوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت، وزیراعظم پاکستان اور متعلقہ ریلوے حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ سکھر کے قدیمی علاقوں میں کئی دہائیوں، بلکہ تقریباً 50 سال سے رہائش پذیر خاندانوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے انسانی ہمدردی، قانونی تقاضوں اور بنیادی شہری حقوق کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ خواتین، بزرگوں اور دیگر رہائشیوں کو ہراساں کرنے، خوف و ہراس پھیلانے اور انہیں بے گھر کرنے کے بجائے مسئلے کا باہمی مشاورت کے ذریعے قابلِ عمل حل تلاش کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے ایک اہم قومی ادارہ ہے، جس کی بنیادی ذمہ داری ریلوے نظام کو بہتر بنانا، مسافروں کو سہولت فراہم کرنا اور اپنے امور کو مؤثر انداز میں چلانا ہے۔ تاہم، ریلوے اراضی سے متعلق کسی بھی کارروائی میں شہریوں کے قانونی حقوق، رہائشی حالات اور انسانی وقار کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
میئر سکھر نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم پاکستان اور وفاقی حکومت اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کریں کہ متاثرہ خاندانوں کے مسائل سنے بغیر کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جس سے شہریوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کارروائی کے دوران قانون کی پاسداری، شفافیت اور انسانی احترام کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے ریلوے اراضی کے معاملے پر مقامی منتخب نمائندوں اور متعلقہ اداروں کے حکام پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے ریلوے ملازمین کی رہائش کے لیے درکار کوارٹرز کی واضح نشاندہی کی جائے، ریلوے اور میونسپل کارپوریشن کی اراضی کا الگ الگ ریکارڈ مرتب کیا جائے اور ملکیت، استعمال اور الاٹمنٹ سے متعلق تمام امور کو شفاف طریقے سے واضح کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے اراضی کے استعمال، کوارٹرز کی الاٹمنٹ، موجودہ رہائشیوں کی شناخت اور متعلقہ قانونی حیثیت کے تعین کے لیے ایک جامع فہرست تیار کی جانی چاہیے تاکہ حقائق کی روشنی میں مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جا سکے۔ متاثرہ خاندانوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے اور ان کے مؤقف کو سنے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا جائے۔
میئر سکھر نے کہا کہ آئینِ پاکستان شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ریاست کی فلاحی ذمہ داریوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 37 میں سماجی انصاف اور عوام کی فلاح و بہبود کے اصولوں پر زور دیا گیا ہے، اس لیے ریاستی اداروں کو ایسے معاملات میں قانونی تقاضوں کے ساتھ انسانی پہلوؤں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے مزید کہا کہ سکھر کے شہریوں کے مسائل کو طاقت یا دباؤ کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مذاکرات، قانونی طریقۂ کار اور باہمی تعاون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد پاکستان ریلوے کے ساتھ تصادم پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک ایسا متفقہ حل تلاش کرنا ہے جس سے ریلوے کے جائز انتظامی تقاضے بھی پورے ہوں اور طویل عرصے سے رہائش پذیر خاندانوں کے حقوق اور تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے شہری علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے طریقۂ کار پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی انسدادِ تجاوزات مہم میں قانون کی یکساں عملداری، شفافیت اور انسانی احترام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ کارروائیوں کے دوران کسی بھی قسم کی دھونس، دھمکی یا غیر مناسب رویے کی شکایات کا جائزہ لیا جائے اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا کہ سکھر کو سرسبز، خوبصورت اور شہری سہولتوں سے آراستہ شہر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ شہری ترقی کا مقصد عوام کو بہتر ماحول، رہائش اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات جن سے مقامی آبادی میں بے چینی پیدا ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریلوے کوارٹرز کے معاملے پر متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے، اراضی کی درست نشاندہی اور تمام فریقین کے مؤقف کی بنیاد پر شفاف حل نکالنے کے لیے ہر متعلقہ فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔ اگر شہریوں کے مسائل حل نہ کیے گئے اور ان کے تحفظات دور نہ ہوئے تو قانونی راستہ اختیار کرنے، عدالت سے رجوع کرنے اور عوامی احتجاج سمیت تمام پُرامن اور قانونی آپشنز استعمال کیے جائیں گے۔
میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے وفاقی حکومت، پاکستان ریلوے اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مشترکہ کمیٹی تشکیل دیں، متاثرہ خاندانوں کو اعتماد میں لیں اور ایک واضح، شفاف اور انسانی ہمدردی پر مبنی پالیسی کے تحت اس دیرینہ مسئلے کا حل یقینی بنائیں۔