سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے نواحی گاؤں جعفر آباد، ڈاکخانہ آرائیں تماچانی، تعلقہ نیو سکھر، ضلع سکھر کے رہائشی لکھن برادری سے تعلق رکھنے والے شہری نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ آباد پولیس تھانے کی جعفر آباد چوکی کے انچارج اور دیگر اہلکاروں کی مبینہ زیادتیوں، تشدد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت طلب کرنے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر متاثرہ شہری بابر ولد کورو لکھن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے اسے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا، تشدد کا نشانہ بنایا، ہاف فرائی اور فل فرائی کرنے کی دھمکیاں دیں اور رہائی کے عوض اس کے ورثاء سے مبینہ طور پر 15 ہزار روپے وصول کیے، جبکہ اس کی رقم بھی تاحال واپس نہیں کی گئی۔بابر لکھن کے مطابق وہ 7 اکتوبر 2026 کو دوپہر تقریباً 12 سے ساڑھے 12 بجے کے درمیان بکرے کی منڈی میں اپنی ایک بکری اور اس کے ایک بچے کو فروخت کرنے کے بعد گھر واپس جا رہا تھا کہ جعفر آباد پولیس چوکی کے قریب چیکنگ کے بہانے اسے روک لیا گیا۔ اس کا الزام ہے کہ ہیڈ کانسٹیبل فیض محمد جونیجو نے اس کی تلاشی لی اور بکری و بچے کی فروخت سے حاصل ہونے والی 75 ہزار روپے کی رقم، ایک موبائل فون اور اس کی زیرِ استعمال سی ڈی 70 موٹر سائیکل، ماڈل 2013، بمعہ متعلقہ کاغذات اپنے قبضے میں لے لیے، جس کے بعد اسے چوکی میں بند کر دیا گیا۔متاثرہ شہری نے مزید الزام عائد کیا کہ حراست کے دوران اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ہاف فرائی و فل فرائی کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس کے بقول پولیس اہلکاروں نے اسے ہتھکڑیاں لگا کر تذلیل کی اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجرموں کی طرح کسی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جہاں اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔بابر لکھن کا کہنا تھا کہ اس کے ورثاء تلاش کرتے ہوئے جب اس تک پہنچے تو مبینہ طور پر اسے رہا کرنے کے عوض ایک لاکھ روپے سے زائد رقم کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے ورثاء نے اپنی مالی مشکلات اور غربت کا حوالہ دیتے ہوئے رقم ادا کرنے سے معذوری ظاہر کی۔ متاثرہ شہری کے مطابق بعد ازاں پولیس اہلکاروں نے اس کا بائیومیٹرک کروایا، جس میں اس کے خلاف کوئی مقدمہ یا کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود، اس کا الزام ہے کہ تھانے کے اہلکاروں نے اس کے ورثاء سے 15 ہزار روپے وصول کرنے کے بعد اسے رہا کیا۔متاثرہ شہری نے مزید بتایا کہ رہائی کے وقت اسے مبینہ طور پر دھمکایا گیا کہ اگر اس نے پولیس اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی شکایت کی تو اس کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے اسے جیل بھجوا دیا جائے گا۔ بابر لکھن کے مطابق حال ہی میں مذکورہ پولیس اہلکار دوبارہ اس کے گھر پہنچے، تاہم اس کی عدم موجودگی میں اہلِ خانہ کو ڈرا دھمکا کر مبینہ طور پر مزید رقم دینے کے لیے دباؤ ڈالا اور چلے گئے۔ اس نے الزام عائد کیا کہ رقم واپس مانگنے پر اسے جان سے مارنے کی سنگین دھمکیاں بھی دی گئیں۔بابر لکھن نے واضح کیا کہ پولیس اہلکاروں نے اس کا موبائل فون اور موٹر سائیکل کے کاغذات واپس کر دیے ہیں، تاہم اس کی فروخت شدہ بکری اور بچے سے حاصل ہونے والی 75 ہزار روپے کی رقم تاحال واپس نہیں کی گئی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اور اس کے اہلِ خانہ خوف و ہراس کا شکار ہیں اور انہیں مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔احتجاج کرنے والے شہری نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر رینج اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت محکمانہ و قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، ملوث اہلکاروں کو قانون کے مطابق ملازمت سے برطرف کرنے پر غور کیا جائے، اس کی 75 ہزار روپے کی رقم واپس دلائی جائے اور اسے و اس کے اہلِ خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے۔متاثرہ شہری نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال اور شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ اسے انصاف مل سکے۔ تاہم ان الزامات پر پولیس کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
سکھر: آباد پولیس چوکی کے اہلکاروں پر شہری کو حراست میں تشدد کا نشانہ بنانے، رقم چھیننے اور رشوت لینے کے سنگین الزامات، متاثرہ شخص کا بچوں سمیت پریس کلب کے سامنے احتجاج
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1