سکھر میں دو سینئر اساتذہ ثناء اللہ انصاری اور محمد علی قاسمی کے اعزاز میں پروقار الوداعی تقریب، ثقافتی تحائف پیش کرکے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا

سکھر (رپورٹ) علم کی شمع روشن کرنے، نئی نسل کے مستقبل کو سنوارنے اور معاشرے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والے اساتذہ کی خدمات کو سراہنے اور ان کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر نیک تمناؤں کے اظہار کی خوبصورت روایت کو برقرار رکھتے ہوئے گورنمنٹ ڈبل سیکشن ہائی اسکول سکھر کے دو سینئر اساتذہ ثناء اللہ انصاری اور محمد علی قاسمی کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب اور ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ تقریب کوئٹہ رنگین ہوٹل، تھیڑی بائی پاس سکھر میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں اساتذہ کے طویل تدریسی سفر، تعلیمی خدمات اور ان سے وابستہ یادوں کو محبت اور احترام کے ساتھ یاد کیا گیا۔

تقریب کا اہتمام ممتاز ماہر تعلیم، حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کے فکر و فلسفے اور شاعری کے ماہر پروفیسر امتیاز علی بلوچ، مشتاق علی لنڈ اور استاد وقار السمیع نے کیا۔ اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور ساتھیوں نے شرکت کرتے ہوئے دونوں اساتذہ کی خدمات کو سراہا اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے یادگار لمحات کا ذکر کیا۔

تقریب کے میزبانوں کی جانب سے معزز اساتذہ کو سندھ کی ثقافتی پہچان اجرک، سندھی ٹوپی اور لنگی کے تحائف پیش کیے گئے، جبکہ انہیں پھولوں کے ہار پہنا کر ریٹائرمنٹ کی مبارک باد بھی دی گئی۔ روایتی ثقافتی تحائف کی پیشکش کے ذریعے سندھ کی مہمان نوازی، محبت، خلوص اور اساتذہ کے احترام کی خوبصورت روایت کا اظہار کیا گیا۔

اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ اساتذہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اپنی محنت، علم اور تربیت کے ذریعے نئی نسل کی صلاحیتوں کو نکھارتے اور انہیں زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ ایک استاد کی خدمات صرف تدریسی دور تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ ان کی تربیت اور رہنمائی کے اثرات شاگردوں کی زندگیوں میں ہمیشہ نمایاں رہتے ہیں۔

تقریب کے دوران شرکاء نے مشترکہ ظہرانے میں شرکت کی اور اپنے طویل تعلیمی سفر سے وابستہ یادیں، خوشگوار لمحات اور ماضی کی ملاقاتوں کے دلچسپ واقعات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے۔ محفل میں دوستانہ ماحول برقرار رہا اور دونوں اساتذہ کے ساتھ گزارے گئے وقت کو محبت اور احترام کے ساتھ یاد کیا گیا۔

شرکاء نے ثناء اللہ انصاری اور محمد علی قاسمی کی تدریسی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی آئندہ زندگی کے لیے صحت، سکون، خوشیوں اور خوشحالی کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ سرکاری ملازمت کے اختتام کا نام ضرور ہے، لیکن ایک استاد کی علمی، اخلاقی اور تربیتی خدمات کے اثرات اس کے شاگردوں کے کردار، کامیابیوں اور عملی زندگی میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

ثناء اللہ انصاری اور محمد علی قاسمی کے اعزاز میں منعقد ہونے والی یہ الوداعی تقریب اساتذہ کی خدمات کے اعتراف، باہمی محبت، احترام اور دیرینہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی ایک خوبصورت مثال بن کر سامنے آئی۔ تقریب کے اختتام پر دونوں اساتذہ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے اس امید کا اعادہ کیا گیا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے تجربات اور علم کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔

What’s your Reaction?
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *