سکھر(رپورٹ رزاق احمد)سکھر کے علاقے بچل شاہ میانی کے رہائشی ملک برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنے 25 سالہ بیٹے ماجد علی ملک کی مبینہ طور پر بے دردی سے ہلاکت اور لاش کو لاوارث قرار دے کر دفنانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھا کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے پولیس کے مبینہ رویے کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، نوجوان کی لاش ورثاء کے حوالے کرنے اور قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق بچل شاہ میانی کے رہائشی مظہر علی ملک، منظور ملک، مائی شبیراں، مائی حلیمہ اور دیگر مرد و خواتین نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ ان کا 25 سالہ بیٹا ماجد علی ملک 10 روز قبل اچانک لاپتہ ہوگیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کی تلاش شروع کی اور مختلف تھانوں میں اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کروائی، تاہم انہیں اپنے بیٹے کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ اپنے لاپتہ بیٹے کی تلاش کے دوران جب وہ ایدھی سینٹر پہنچے تو وہاں موجود عملے نے ریکارڈ چیک کرنے کے بعد انہیں بتایا کہ ایئرپورٹ تھانے کی پولیس ایک نوجوان کی لاش تدفین کے لیے ایدھی سینٹر کے حوالے کرکے گئی تھی، جسے لاوارث قرار دے کر دفن کردیا گیا ہے۔ورثاء کے مطابق یہ اطلاع ملنے پر انہوں نے ایئرپورٹ تھانے سے رابطہ کرکے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی کہ ان کے بیٹے کی لاش کو ورثاء کی موجودگی اور شناخت کے بغیر لاوارث قرار دے کر کیوں دفن کیا گیا۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ایئرپورٹ پولیس نے انہیں بتایا کہ عارف بلڈر کے قریب ایک نوجوان کی لاش ملنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد تدفین کے لیے ایدھی سینٹر کے حوالے کردیا۔ورثاء کا مزید کہنا تھا کہ جب انہوں نے پولیس سے اپنے بیٹے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کی تو مبینہ طور پر پولیس نے رپورٹ فراہم کرنے سے صاف انکار کردیا، جس کے باعث انہیں شدید تحفظات لاحق ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بیٹے کی موت معمول کے مطابق ہوئی تھی تو پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم کرنے سے انکار کیوں کیا جارہا ہے؟مظاہرین نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے بیٹے ماجد علی ملک کو مبینہ طور پر قتل کیا گیا ہے اور پولیس قاتلوں کو بچانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نوجوان کی لاش کو لاوارث قرار دے کر دفنانے اور اس کے ورثاء کو بروقت اطلاع نہ دینے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں، جن کے جوابات متعلقہ حکام کو دینے ہوں گے۔احتجاج میں شریک خواتین نے قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھا کر اپنے بیٹے کے قتل کا انصاف طلب کیا اور کہا کہ وہ اپنے نوجوان بیٹے کی موت کے حوالے سے حقائق سامنے آنے تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں، ماجد علی ملک کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ورثاء کو فراہم کی جائے، قبر کشائی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق لاش ورثاء کے حوالے کرنے کے معاملے پر بھی فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوجوان کے قتل میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے گرفتار کیا جائے اور اگر تحقیقات میں کسی پولیس اہلکار کی غفلت یا مبینہ طور پر ملزمان کی پشت پناہی ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ورثاء نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ ان کے نوجوان بیٹے کی موت کا اصل سبب سامنے لایا جائے اور انہیں انصاف فراہم کرکے ان کے خاندان کو درپیش اذیت اور بے چینی کا خاتمہ کیا جائے۔
سکھر: نوجوان ماجد علی ملک کے قتل کا الزام، ورثاء کا قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھا کر پریس کلب کے سامنے احتجاج
What’s your Reaction?
+1
+1
+1
+1
+1