سکھر: معصوم بچپن مزدوری کی بھینٹ چڑھ گیا، چائلڈ لیبر کا دھندا عروج پر، متعلقہ محکمے خاموش

سکھر (رپورٹ عبدالجبار نوناري) سکھر میں چھوٹے بچوں سے کام لینے کا سلسلہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ مستریوں کے ساتھ، دکانوں پر، ہوٹلوں پر اور صفائی کے عملے میں بھی ننھے بچوں کو استعمال کیا جا رہا ہے،  مگر چائلڈ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور لیبر ڈیپارٹمنٹ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں 8 سے 14 سال تک کے بچے صبح سے شام تک مزدوری کرتے نظر آتے ہیں۔ کوئی مستری کے ساتھ اینٹیں اٹھا رہا ہے، کوئی دکان پر برتن دھو رہا ہے، کوئی چائے کا کپ اٹھا رہا ہے تو کوئی سڑکوں پر صفائی کا کام کر رہا ہے۔یہ وہ عمر ہے جب ان کے ہاتھ میں کتاب، قلم اور بستہ ہونا چاہیے تھا، مگر غربت، مہنگائی اور والدین کی بے بسی نے ان کے ہاتھ میں جھاڑو، بیلچہ اور اوزار تھما دیے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ بچوں سے مشقت لینا قانوناً جرم ہے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 11 اور چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت 14 سال سے کم عمر بچے سے مزدوری کرانا قابل سزا جرم ہے، لیکن سکھر میں قانون صرف کاغذوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔متاثرہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے دو وقت کی روٹی مشکل کر دی ہے، اس لیے مجبوراً بچوں کو کام پر بھیجنا پڑتا ہے۔ جبکہ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ ان بچوں کے لیے مفت تعلیم، ماہانہ وظیفہ اور تربیتی مراکز کا انتظام کرے تاکہ یہ بچے اسکول جائیں نہ کہ ورکشاپس پر۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر سکھر، چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور لیبر ڈیپارٹمنٹ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سکھر میں چائلڈ لیبر کے خلاف فوری مہم چلائی جائے، دکانوں، ورکشاپس اور صفائی کے ٹھیکوں کی چیکنگ کی جائے، اور بچوں سے کام لینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
یہ بچے کل کا مستقبل ہیں، اگر آج ان کا بچپن چھین لیا گیا تو کل یہ معرہا ہے؟
بچوں کو اسکول دو، مزدوری نہیں!

What’s your Reaction?
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *